● اگر میری عبادات میرے اخلاقی وجود کا تزکیہ نہیں کرتیں
● اگر میرے بیوی، بچے اور میرے قریبی اقرباء میرے اعلیٰ اخلاق کی گواہی نہیں دیتے
● اگر میرا چہرہ داڑھی سے تو سجا ہےمگر مسکراہٹ کی سنّت سےخالی ہےاور ہروقت میرا چہرہ کرخت درشت رہتا ہے
● اگر میں شرعی احکام کی پابندی تو کرتا ہوں لیکن معاشرتی و سماجی معاملات میں بلکل کورا ہوں
● اگر دین پر چلنے سے میری طبیعت میں نرمی نہیں بلکہ سختی آ گئی ہے
● اگر میں دعوت کی جگہ تکفیر (کفر کے فتووں) کا رویہ اپنائے ہوئے ہوں
---------------------------------------------
★تو جان لیں کہ یہ وہ اسلام نہیں جسکی تعلیم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی اور جسے صحابہ رضی الله عنہم نے اپنی زندگیوں میں سجایا تھا● اگر میرے بیوی، بچے اور میرے قریبی اقرباء میرے اعلیٰ اخلاق کی گواہی نہیں دیتے
● اگر میرا چہرہ داڑھی سے تو سجا ہےمگر مسکراہٹ کی سنّت سےخالی ہےاور ہروقت میرا چہرہ کرخت درشت رہتا ہے
● اگر میں شرعی احکام کی پابندی تو کرتا ہوں لیکن معاشرتی و سماجی معاملات میں بلکل کورا ہوں
● اگر دین پر چلنے سے میری طبیعت میں نرمی نہیں بلکہ سختی آ گئی ہے
● اگر میں دعوت کی جگہ تکفیر (کفر کے فتووں) کا رویہ اپنائے ہوئے ہوں
---------------------------------------------
✖ ہم اپنی داڑھی کے طول اور شلوار کی اونچائی سے اللہ کو دهوکا نہیں دے سکتے، ہرگز نہیں دے سکتے
✖ بعض لوگ "سچ کڑوا ہوتا ہے، سچ کڑوا ہوتا ہے" کی رٹ لگا کر ہر طرح کی بد تہذیبی کرتے جاتے ہیں، انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اکثر سچ کڑوا نہیں ہوتا بلکہ سچ بولنے والے کا انداز کڑوا ہوتا ہے
---------------------------------------------
✔ کڑوی سے کڑوی بات بھی اگر تہذیب اور شائستگی سے کی جائے تو اس میں مٹھاس گھل جاتی ہے، اگر آپ سچ بولنے کی آڑ میں مخاطب کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں تو یہ سچائی کا پرچار نہیں بلکہ آپ کے نفس كے تکبر اور انا کی تسکین کا سامان ہے۔
اگر میری عبادات میرے اخلاقی وجود کا تزکیہ نہیں کرتیں
Reviewed by irfan ullah
on
December 30, 2017
Rating:
Reviewed by irfan ullah
on
December 30, 2017
Rating:

No comments: